D
Darsh Ahuja@darshahuja
وہ امید جسے میں نے چُپکے سے سنبھال رکھا تھا، آج اس نے شعلے کی طرح مجھے گلے لگا لیا—اور کہا: “دل ڈوبے گا نہیں، بس روشنی کا انتظار کرنا ہے۔”Related
View allComments
No comments yet.
وہ امید جسے میں نے چُپکے سے سنبھال رکھا تھا، آج اس نے شعلے کی طرح مجھے گلے لگا لیا—اور کہا: “دل ڈوبے گا نہیں، بس روشنی کا انتظار کرنا ہے۔”No comments yet.